جموں،19؍اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) جموں و کشمیر میں بی جے پی نے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر طنز کساہے۔ بی جے پی نے کہا ہے کہ یہ لوگ کشمیریوں کے لیڈرنہیں ہیں۔اگر یہ لوگ کشمیریوں کے لیڈر ہوتے تو ان کی رہائی کے لیے لوگ سڑکوں پر اترتے، لیکن ایک بھی شخص ان سب کے لیے ایک لفظ نہیں بولا۔ وادی سے آرٹیکل 370 ہٹنے کے بعد سے تینوں رہنما حراست میں ہیں۔جموں میں میڈیاسے بات کرتے ہوئے پارٹی کے قومی نائب صدر اویناش رائے کھنہ نے کہاہے کہ ریاست سے دفعہ 370 ہٹنے کے بعد سے جیل میں بند سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی اگر لیڈر ہوتے تو ان کی گرفتاری پر عوام سے کوئی رد عمل توآتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بھی عام کشمیری ان کے لیے ہمدردی کا ایک لفظ نہیں بولا۔اویناش رائے نے کہاہے کہ ان تمام لیڈروں نے 70 سال تک ریاست کو لوٹا ہے اورجن لوگوں کے لیے انہوں نے کام کیا وہ ان کا اپنا خاندان تھا۔ان کے خاندان کے 10 افراد نے دکھاوے کے لیے صرف ایک دن مظاہرہ کیا۔ اویناش رائے نے مزیدکہاہے کہ کشمیر میں لوگ اکتوبر 24 کو بلاک ڈیولپمنٹ کمیٹی کے انتخابات کے لیے بڑھ چڑھ کے حصہ لے رہے ہیں اور اب تک ان انتخابات میں 520 لوگوں نے انتخاب لڑنے کی خواہش ظاہر کی ہے جو ایک بڑی بات ہے۔سیب تاجروں پردہشت گرد حملوں کو دہشت گرد مایوسی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاہے کہ دہشت گرد کشمیر میں امن بحالی سے خوش نہیں ہیں۔ وہ امن میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاہے کہ حکومت مکمل طور پر مستعد ہے اور دہشت گردوں کے منصوبوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔